دل شکنی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - دل توڑنا، مایوس کرنا، رنجیدہ کرنا۔ "حضرت عبداللہ کو بیوی کی دل شکنی گوارا نہ ہوئی۔"      ( ١٩٤٣ء، سیدہ کی بیٹی، ٨٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم جامد 'دل' کے ساتھ فارسی مصدر 'شکستن' سے فعل امر 'شکن' لگا کر آخر پر 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٩٥ء کو قائم کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دل توڑنا، مایوس کرنا، رنجیدہ کرنا۔ "حضرت عبداللہ کو بیوی کی دل شکنی گوارا نہ ہوئی۔"      ( ١٩٤٣ء، سیدہ کی بیٹی، ٨٠ )

جنس: مؤنث